ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / سچن پائلٹ کی گھر واپسی ،جے پور پہنچے، شاندار خیر مقدم

سچن پائلٹ کی گھر واپسی ،جے پور پہنچے، شاندار خیر مقدم

Wed, 12 Aug 2020 12:23:31    S.O. News Service

جئے پور،12؍اگست (ایس او نیوز؍ایجنسی) راجستھان میں کانگریس حکومت پر لٹکتی تلوار بالآخر  ہٹ گئی ہے۔ پیر کو کانگریس  لیڈر راہل گاندھی اور پرینکا گاندھی  کے ساتھ میٹنگ میں مفاہمت ہوجانے کے بعد سچن پائلٹ منگل کو  جے پور میں اپنی رہائش گاہ پہنچ گئے جہاں ان کے حامیوں نے ان کا شاندار خیر مقدم کیا۔اس دوران کئی ہفتوں بعد پہلی  بار سچن پائلٹ نے پریس سے خطاب کیا اور واضح کیا کہ انہوں  نے پارٹی  سے کسی طرح کا کوئی عہدہ نہیں مانگا ہے۔ انہوں  نے ا س  بات پر زور دیا کہ کسی طرح کی انتقامی سیاست نہیں ہونی چاہئے۔ دوسری طرف وزیراعلیٰ  اشوک گہلوت  جو جیسلمیر میں ہیں اور جو سچن پائلٹ کو نکما تک کہہ چکے ہیں،مفاہمت کے بعد سچن پائلٹ کے تعلق سے براہ راست کچھ کہنے سے گریز کرتے نظر آئے۔  البتہ انہوں نے کہا کہ  ناراض اراکین اسمبلی کی شکایتوں کو دور کرنا ان کی ذمہ داری ہے۔ 

سچن پائلٹ کی پریس کانفرنس:  بغاوت کے بعد پہلی بار پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سچن پائلٹ نے اس بات پر زور دیا کہ انہوں نے پارٹی  کے خلاف کچھ نہیں کہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سیاست میں  ’’ذاتی دشمنی ‘‘کی کوئی جگہ نہیں ہونی چاہئےا ور کسی بھی طرح کی انتقامی سیاست نہیں کی جانی چاہئے۔  انہوں نے اعتراف کیا کہ  اس دوران ’’میرے خلاف جو بیان دیئے گئے ان سے دکھ بھی ہوا اور حیرت بھی مگر میں آئندہ کی نسلوں کیلئے ایک مثال قائم کرنا چاہتا تھا اس لئے کوئی جواب نہیں دیا۔‘‘ انہوں نے بتایا کہ انہوں  نے پارٹی سے کوئی عہدہ نہیں مانگا ہے ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ ان کے خلاف غداری کا مقدمہ قطعی مناسب نہیں تھا۔  انہوں نے اس پورے تنازع میں اپنے رول کو واضح کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’’میں  نے پارٹی کے خلاف کوئی بیان نہیں دیا بلکہ اپنی شکایتوں  پر گفتگو کیلئے دہلی میں کانگریس ہائی کمان  کے پاس گیا۔ میں  نے پارٹی سے کوئی عہدہ نہیں مانگا ہے۔‘‘

 جیسلمیر میں گہلوت کی اپنے اراکین اسمبلی کے ساتھ میٹنگ:  دوسری جانب جیسلمیر میں وزیراعلیٰ اشوک گہلوت نے اپنے اراکین اسمبلی کے ساتھ میٹنگ کی ۔  کانگریس کے اراکین اسمبلی کا مطالبہ تھا کہ جن اراکین نے بغاوت کی ہے ان کے خلاف کارروائی ہونی چاہئے جبکہ اشوک گہلوت کا کہنا تھا کہ اس پر اعلیٰ کمان کا جو فیصلہ ہوگا وہ مانا جائے گا ۔   بہرحال جب نامہ نگاروں  نے ان سے سچن پائلٹ کے تعلق سے گفتگو کی تو وہ براہ راست کچھ بولنے سے گریز کرتے نظر آئے۔  انہوں نے کہا کہ یہ ان کی ذمہ داری ہے کہ ناراض اراکین اسمبلی کی شکایتوں کو دور کریں۔ مفاہمت کے تعلق  سے پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں گہلوت کا کہناتھا کہ ’’اگر پارٹی ہائی کمان نے انہیں  معاف کردیا ہےتو میں پرجوش طریقے سے گلے لگاؤں گا۔‘‘

 سچن پائلٹ کو کوئی بڑی ذمہ داری سونپی جاسکتی ہے: سچن پائلٹ کی شکایت سننے اور مسئلہ کو حل کرنے کے لیے سہ رکنی کمیٹی تشکیل دی گئی ہے ۔ جہاں تک اشوک گہلوت کا سوال ہے تو وہ وزیر اعلیٰ کے عہدے پر فائز رہیں گے جبکہ سچن پائلٹ کو کوئی بڑی ذمہ داری سونپی جا سکتی ہے ۔سچن پائلٹ راجستھان کانگریس کے صدر اور راجستھان کے نائب وزیر اعلیٰ تھے۔ جب معاملہ نے طول پکڑا تو انھیں دونوں عہدوں سے ہٹا دیا گیا تھا۔ اس کے ساتھ  ہی ان کو نااہل قرار دینے والا نوٹس بھی اسمبلی اسپیکر سی پی جوشی کی طرف سے جاری کیا گیا تھا جس کے بعد معاملہ ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ تک پہنچا ۔

’ راجستھان کی صلح بی جے پی کے منہ پر طمانچہ‘: کانگریس نے راجستھان یونٹ میں کئی دنوں سے جاری تنازع کے سلجھنے پر ریاست کے عوام کو مبارکباد دیتے ہوئے اسے پارٹی اعلیٰ کمان کے ’سب کوساتھ لے کر چلنے‘ کی پالیسی کا نتیجہ بتایا  اور کہا کہ یہی  بی جے پی کو کرارا جواب ہے۔ کانگریس کے میڈیا سیل کے سربراہ رندیپ سنگھ سرجے والا نے منگل کو جاری کئے گئے  بیان میں کہا ہے کہ ’’کانگریس کے ریاستی لیڈروں کے درمیان جاری تنازع سے مسلسل بحران بڑھ رہا تھا لیکن کانگریس کے سابق صدر راہل گاندھی اور جنرل سیکریٹری پرینکا گاندھی واڈرا کی سب کو ساتھ لے کر چلنے اور پارٹی میں ہر کسی کے جذبات کی قدر کرنے کی پالیسی کے سبب یہ تنازعہ ختم ہو گیا۔‘‘

 انہوں نے کہاکہ’’اشوک گہلوت کی پختگی اور سچن پائلٹ کے اعتماد نے حل نکالا ہے۔‘‘ترجمان نے اس صلح کو بی جے پی کے منہ پر کرارا طمانچہ قرار دیا اور کہاکہ’’ یہ بی جے پی کو کرارا جواب ہے جو اپوزیشن میں ہو نے اور عوام کی جانب سے مسترد کردیئے جانے کے بعد بھی  حکومت بنانے کے خواب دیکھ رہی تھی۔‘‘


Share: